بیٹیاں پھول ہیں

بیٹیاں پھول ہیں

تحریر: محمد ثاقب

چارلس ڈکنز کا کہنا ہے کہ خوشی اور طمانیت آپ کی خوبصورتی کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ آپ کی نوجوانی برقرار رکھنے میں کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔

80

سالہ جوان شخص پاکستان کے مشہور صحافی گروپ ایڈیٹر محمود شام کے ساتھ ایک یادگار دن گزارنے کا موقع ملا۔ چہرے پر مسکراہٹ مضبوط اورا

(AURA)

جس میں سرخ اور پیلا رنگ نمایاں نظر آیا یہ رنگ ان کے جذبے اور خود اعتمادی (ہائی سیلف اسٹیم) کو ظاہر کرتے ہیں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور خاص بات کہ آؤٹ آف دی باکس جا کر کچھ تخلیقی کام کرنے کا ارادہ ہے۔

جب ہندوستان تقسیم ہوا تو ان کی عمر سات سال تھی انبالہ چھاؤنی سے مال گاڑی کے بغیر چھت کے ڈبے پر لاہور تک کا سفر ابھی تک ان کی یادداشت میں باقی ہے۔ جھنگ شہر سے میٹرک کیا۔ والد صاحب کا نام حکیم صوفی شیر محمد تھا۔ مذہبی رجحانات رکھتے تھے اور حکمت ان کا پیشہ تھا۔

جھنگ میں کالج کے تعلیم کے دوران ہی کالج میگزین کے ایڈیٹر بن گئے اس سے پہلے ہی ان کی نظم مختلف رسالوں میں چھپنا شروع ہوگئی تھی۔ ماسٹرز گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور وہاں بھی راوی کے نام سے نکلنے والے میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ گویا ٹیلنٹ ابتدائی عمر میں ہی نکل کر سامنے آنا شروع ہوگیا تھا۔

نوائے وقت کے پلیٹ فارم سے اپنا ابتدائی کیریئر شروع کیا۔ عطا الحق قاسمی صاحب ان کو اپنا استاد کہتے ہیں نوائے وقت کے بعد پھر اخبار جہاں میں اسسٹنٹ ایڈیٹر ہو گئے پھر جنگ گروپ اے آر وائی اور مختلف پلیٹ فارمز۔

آج 2024 میں جنگ نیوز کے صفحات پر ہم ان کے کالم پڑھتے ہیں پاکستان کے بہترین ماہانہ رسالوں میں سے ایک “اطراف” کے چیف ایڈیٹر ہیں۔

20

سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور اس دشت میں 80 سال سے زیادہ گزارنے کے بعد بھی جوش و جذبہ جواں ہے۔ انہی کا ایک شعر یاد آگیا

ایسے چپ چپ بھی کیا جیا جائے
اب کہیں عشق ہی کیا جائے

پاکستان کی تاریخ کے چشم دیدہ راوی ہیں میں نے پوچھا کیا پاکستان میں اتنے قابل لوگ موجود ہیں جو اس کو ترقی کی نئی منازل پر لے کر جا سکیں۔ ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا ثاقب بھائی دبئی سنگاپور اور حتی کے برطانیہ کی ترقی میں پاکستانیوں کا کلیدی کردار ہے۔ پاکستانیوں کی سپرٹ کے ہمیشہ مداح رہے۔

2005

کے زلزلے کے بعد “زلزلے کی دھول” کے نام سے ایک خاص کتاب لکھی اس کتاب میں لکھتے ہیں

زبان، رنگ، عقائد ہیں مختلف لیکن
ہر ایک آنکھ میں احساس ایک جیسا ہے

سیاسی رہنماؤں سے ان کے کیے ہوئے انٹرویوز کی کلیکشن پر مبنی ان کی کتاب “روبرو” خاصے کی چیز ہے اور پاکستانی تاریخ اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو پڑھنی چاہیے۔

“شام بخیر” کے نام سے ان کی خود نوشت بھی اسی سال منظر عام پر آئی ہے۔

کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی زرخیز مٹی کا اعزاز ہے کہ راجپورے کا ایک غریب گھرانے کا عام سا لڑکا صرف پڑھنے لکھنے اور اپنی ذہانت اور اہلیت سے اردو کے سب سے بڑے اخبار کا گروپ ایڈیٹر بن جاتا ہے اس خود نوشت میں آپ سیاست کی نیرنگیوں کے ساتھ ساتھ محمود شام کے دنیا بھر میں کیے ہوئے دوروں کے دوران حاصل ہوئے تجربات کے بارے میں بھی جان سکیں گے۔

1987

میں ان کی بیٹی کی شادی سرگودھا میں ہوئی۔ کراچی سے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے یہ یادگار نظم پڑھی

بیٹیاں پھول ہیں

پھول جب شاخ سے کٹتا ہے بکھر جاتا ہے

پتیاں سوکھتی ہیں

ٹوٹ کے بکھر جاتی ہیں

بیٹیاں پھول ہیں

ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں

ماں کی آنکھوں کی چمک بنتی ہیں

باپ کے دل کا سکون ہوتی ہیں

گھر کو جنت سا بنا دیتی ہیں

ہر قدم پیار بچھا دیتی ہیں

جب بچھڑنے کی گھڑی آتی ہے

غم کے رنگوں میں خوشی آتی ہے

ایک گھر میں تو اترتی ہے اداسی

لیکن

دوسرے گھر کے سنورنے کا یقین ہوتا ہے

بیٹیاں پھول ہیں

ایک شاخ سےکٹتی ہیں

مگرسوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں

ایک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھلا دیتی ہیں

بیٹیاں پھول ہیں

اپنی پہلی جاب کے بارے میں بتایا 1963 میں ہفت روزہ قندیل میں 100 روپے ماہوار پر کام کرتے تھے۔

2005

میں شائع ہونے والی ان کی کتاب امریکہ کیا سوچ رہا ہے کا انگلش ورژن میرے ہاتھوں میں ہے۔

انگریزی میں بھی ان کے قلم کی روانی اردو سے کم نہیں یہ کتاب امریکہ کے مکمل نظام سے آپ کو آگاہی فراہم کرتی ہے۔ انٹرنیشنل وزیٹرز پروگرام کے تحت امریکہ میں صحافیوں کےایک گروپ کے ساتھ انہوں نے کچھ ہفتے گزارے یہ کتاب انہی یادداشتوں کے بارے میں ہے۔

میں نے پوچھا اپنی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں بتائیں تو شاعری میں احمد ندیم قاسمی کی “رم جھم” اور نثر میں شوکت صدیقی کے مشہور ناول “خدا کی بستی” کا تذکرہ کیا۔ اس مشہور ناول کا ترجمہ 20 سے زائد زبانوں میں ہو چکا ہے۔

گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے موجودہ دور کے رائٹرز کے بارے میں پوچھا تو مستنصر حسین تارڑ کی تعریف کی اور ان کا ناول “راکھ” پڑھنے کا مشورہ دیا۔

بھٹو صاحب سے اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ بھٹو صاحب کتابوں کے عاشق تھے کراچی کے تین بڑے بک سیلر نئی کتابیں لے کر باقاعدگی سے ان کے پاس آتے تھے۔

میں نے پوچھا کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا کیا حال ہے جواب دیا۔۔

1۔ سیاسی پارٹیاں قومی سطح پر اپنےآپ کو مضبوط بنائیں۔ کونسلر وارڈ لیول سے انتخابات ہوں اور وہی لوگ پھر پارٹی میں اوپر آئیں۔

2۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی “شیڈو کیبنٹ” پر کام کیا جائے۔

3۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور لوئر کورٹس سے لوگوں کو انصاف ملتا ہوا نظر آئے۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ میرے کالمز کا ٹائٹل “آخر کیوں” محمود شام صاحب نے تجویز کیا۔

ہزاروں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا اور آج بھی سادگی اور وقار کے ساتھ نئی منزلوں کی جانب گامزن ہیں۔

ان سے ملاقات کے دوران کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ آپ ایک بہت بڑے شخص کے ساتھ ہم کلام ہیں۔ صاحب علم اور انسان دوست لوگوں کی یہی خوبی ہوتی ہے۔

اپنی تحریروں اور دیگر کاموں کے ساتھ لوگوں کی خدمت کا، محمود شام صاحب کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔ آخر میں انہی کے لکھے ہوئے کچھ اشعار

عمر گزری کہ تیری دھن میں چلا تھا دریا
جا بجا گھومتا ہے آج بھی پگلا دریا

شام آکاش پہ جب پھیلتا ہے دن کا لہو
ڈوب جاتا ہے کسی سوچ میں بہتا دریا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *