میلسی کا ڈیجیٹل ملنگ

میلسی کا ڈیجیٹل ملنگ

تحریر: محمد ثاقب

یہ میلسی شہر میں واقع ایک گاؤں کا منظر ہے۔ 80 کی دہائی ہے اور حوالدار علی شیر کے گھر میں موجود لوگ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی تقریب کے انعقاد کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ صحن میں پانی چھڑکا جا رہا ہے موہڑے رکھے جا رہے ہیں۔ چارپائیوں پر موجود چادروں کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

متوقع مہمانوں کی ضیافت کے لیے چائے اور لسی کا بندوبست ہو رہا ہے۔ گرمیوں کا موسم ہے مغرب کی نماز کے بعد لوگ آنا شروع ہو جاتے ہیں بوڑھوں کو اہتمام سے موہڑوں پر بٹھایا جاتا ہے۔

نوجوان بڑی سی دری پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ خواتین کے لیے علیحدہ بندوبست ہوتا ہے گاؤں کے یہ سب لوگ کسی شادی کی تقریب کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ حوالدار علی شیر کے گھر پی ٹی وی کا مشہور ڈرامہ اندھیرا اجالا دیکھنے آئے تھے کیونکہ پورے گاؤں میں کلر ٹیلی ویژن صرف اسی گھر میں تھا اور ہر ہفتے یہی منظر اس گھر میں دیکھنے کو ملتا تھا دلوں کو چھو لینے والے اس منظر کو بیان کرتے ہوئے حوالدار علی شیر کے صاحب زادے ثقلین صاحب کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آگئی۔

ان کے چہرے کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس منظر کے اندر دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ثقلین شیر سے پچھلے ہفتے ان کے آفس میں ملاقات ہوئی۔ نیشنل بینک میں ایچ آر کمیونیکیشن اینڈ ایمپلائیز برانڈنگ کے ونگ ہیڈ ہیں۔

گاؤں کے سنہری دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے گھر کا فریج، ٹیلی ویژن اور استری گویا پورے گاؤں کی ملکیت تھی ان کی والدہ کی شفقت کا یہ عالم تھا کہ پورے گاؤں میں کہیں بھی فوتگی ہو جاتی تو ٹیلی ویژن کا پلگ نکال دیتیں، کہ اب تین دن تک گھر میں ٹی وی نہیں چلے گا۔

محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے
منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ لیتے ہیں

(فیض احمد فیض)

ثقلین صاحب کہتے ہیں ثاقب بھائی میں نے اپنے والدین کے اس طرز عمل سے فراخ دلی اور میزبانی کا فن سیکھا، بزرگوں کا احترام اور اپنے دسترخوان کو وسیع رکھنا یہ اوصاف اس فیملی کے بچوں نے ابتدائی عمر میں ہی سیکھ لیے تھے۔

ہماری وہ سنہری روایتیں جب کسی کا مہمان پورے گاؤں کا مہمان ہوتا تھا سکھ اور دکھ مشترکہ تھے۔ دینے کا، بانٹ کر کھانے کا رواج تھا۔

اس دور کا نوجوان ہانڈی پر جھکی ہوئی اپنی ماں سے پوچھتا ہے۔۔

“بے بے آج کیا چاڑھا ہے کیا پکایا ہے؟

وہ سر اٹھا کر کہتی “پتر ٹینڈے ہیں بہت نرول”

“نہیں بے بے”۔ وہ جوان بچوں کی ماند روٹھ جاتا۔

“میں نے ٹینڈے نہیں کھانے”

اس انکار کے بعد بے بے فوری طور پر اس اندھیاری گرم رات میں آس پاس کے جتنے بھی کوٹھے آباد تھے ان سے مخاطب ہو کر بلند آواز میں سوال کرنے لگتی ہے کہ بہن آشاں بی بی کیا پکایا ہے۔۔ صغراں۔۔ نی پھاتاں۔۔ رحمتے۔۔ بھاگاں

اور ادھر سے جواب آنے لگتے چاول ہیں گڑ والے ان میں کشمش اور ناریل بھی ہے۔۔

چنے کی دال ہے۔۔ تندوری پراٹھے ہیں۔۔ باتھو کا ساگ ہے۔۔ گنے کے رس کی کھیر ہے۔۔ توریاں ہیں۔

پورے گاؤں کا مینو سامنے آجاتا اور وہ نوجوان ان میں سے کسی ایک خوراک کا چناؤ کر لیتا اور اگلے لمحے وہ خوراک کوٹھوں پر سے سفر کرتی اس تک پہنچ جاتی اور اس طریقے سے لاشعوری طور پر پورے گاؤں کی آرٹ آف آسکنگ

(Art of Asking)

کی ٹریننگ ہو جاتی ہے۔

مجھے اپنی پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر خلیل صاحب (اللہ تعالی ان کی قبر کو نور سے منور کرے) یاد آگئے۔ چھوٹا سا سکول، سادہ زمانہ، ہماری کلاس میں ٹوٹل 13 لڑکے پڑھتے تھے۔ وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے میرا انتخاب ہوا شہر میں موجود بڑے ہائی سکول میں مجھے پیپر دینے کے لیے جانا تھا۔

سکول کی وسعت اور سینکڑوں بچوں کی موجودگی، میں سما ہوا کمرہ امتحان میں پہنچا پہلا پیپر میتھ حساب کا تھا۔ جس کا رزلٹ وہیں ہال میں سنایا گیا اور سینکڑوں بچوں میں سے اس پیپر میں، میں نے ٹاپ کیا ایک یادگار لمحہ۔ باہر نکل کر سکول کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں پہنچتا ہوں تو ایک بوڑھا شخص میرے انتظار میں وہاں موجود ہوتا ہے۔

محترم دوستو! وہ شخص میرا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں، بلکہ بابا خلیل تھے۔ اپنی پرانی سی سائیکل پر، اپنے صرف ایک سٹوڈنٹ کا انتظار کرتے ہوئے گھنٹوں سے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر میری کامیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے اور وہاں پر وہ اکیلے نہیں تھے دور دراز کے اسکولوں سے امتحان دینے کے لیے آئے ہوئے سٹوڈنٹس کے ساتھ ان کے کلاس انچارج یا ہیڈ ماسٹر ان کے ساتھ موجود تھے۔

جی ہاں کوئی فلمی کہانی، نہیں استاد ایک روحانی باپ کی صورت میں وہاں موجود تھے ایک سورج کی مانند جن کی کرنیں پوری دنیا کو منور کر رہی ہیں۔

بابا خلیل صاحب کو اسکول کے تمام سالوں میں سائیکل پر ہی آتے ہوئے دیکھا۔ کہتے تھے جب میرے بچوں کے بورڈ کے پیپرز آتے ہیں تو مجھے رات کو نیند نہیں آتی وہ محبت جو ایک باپ کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے سادہ طرز زندگی اور بغیر لالچ کے ہر روز ہمارے مستقبل کی تعمیر کے لیے فکر مند اب اس دنیا میں نہیں لیکن ان کے لگائے ہوئے پودے، تناور درختوں کی صورت میں ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ بقول غالب

مقدور ہوں تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایا کیا کیے

ترجمہ اگر میں خوش قسمت یا اہل اقتدار ہوتا تو میں زمین سے پوچھتا کہ کنجوس تو نے وہ بیش بہا قیمتی خزانوں کا کیا کیا؟

ثقلین شیر نے ایچ آر میں ڈاکٹریٹ کی۔ کہتے ہیں میں اپنے گاؤں کا پہلا بچہ تھا جو کالج تک گیا پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہائی سکول میں داخلہ ہوا جو ان کے گاؤں سے نو کلومیٹر دور تھا ہر روز سائیکل پر آنا جانا ہوتا تھا۔

ایف ایس سی کے بعد ہی کام کرنا شروع کر دیا اپنا پرنٹنگ پریس بنایا اور خبریں اخبار کے ساتھ بطور صحافی منسلک ہو گئے رفیق تارڑ صاحب سے قائد اعظم ایوارڈ بھی لیا۔ خبریں اخبار کے ضیا شاہد صاحب کے بارے میں بتایا کہ بے باکی ان سے سیکھی ضیا صاحب نے اپنی ٹیم کو سکھایا کہ بات صحیح لگتی ہے تو کہہ دو یہ اعتماد اور بےباکی زندگی بھر ان کے کام آئی۔

سعودی عرب سے جاب کی آفر آئی تو وہاں چلے گئے اور بیسک لیول کی پوسٹ سے کام شروع کرکے دو سال میں دو پروموشنز لے لیے۔

کہتے ہیں کہ کام کے دوران پتہ چلا کہ ٹیلی نامی سافٹ ویئر پر کام سیکھا جائے تو آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں تو انہوں نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ لگا کر ایک ٹرینر سے اس سافٹ ویئر کا کام سیکھ لیا۔

آپریشن مینیجر وزٹ پر آیا تو اخبار میں کام کرتے ہوئے سیکھا ہوا اعتماد بروئے کار لا کر اس کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ میں ٹیلی سافٹ ویئر پر کام کر سکتا ہوں ثقلین صاحب کا پر اعتماد انداز مینیجر کو پسند آتا ہے اور یہیں سے ان پر ترقی کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں کمپنی کی طرف سے برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے ایچ آر میں گریجویشن کر لیتے ہیں اور آج پاکستان میں اس فیلڈ کے ٹاپ کے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

آئی ایس او کی ٹیکنیکل کمیٹی میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پی ٹی وی نیوز سے پروگرام “بات کاروبار کی” کا حصہ ہیں 10 سے زیادہ ملکوں میں کام کر چکے ہیں۔

محترم دوستو! اب آپ نے اپنے آپ سے سوال پوچھنا ہے کہ آپ نے آخری بار اپنی صلاحیتوں کو کب امپروو کیا تھا؟ کسی سافٹ وئر پر کام سیکھا؟ کوئی کتاب پڑھی؟

آپ کے فرینڈ سرکل میں کسی نئے شخص کا اضافہ ہوا اپنی جسمانی صحت کو بہتر کرنے کے لیے واک، جاگنگ، جم سائیکلنگ کو شروع کیا ان سوالوں کے جواب کے اندر ہی آپ کے ترقی کرنے یا نہ کرنے کا راز چھپا ہوا ہے۔

ان کے والد صاحب حوالدار علی شیر ریٹائرمنٹ کے بعد مقامی مسجد میں موذن بن گئے اور اپنی وفات تک مسجد کے ساتھ جڑے رہے۔

کہتے ہیں والد صاحب سے سیکھا کہ کوئی شخص مدد مانگنے آئے تو انکار نہ کیا جائے اور فیملی کے ساتھ جڑ کر رہا جائے۔ یہی چیزیں ثقلین صاحب کی ذات میں نظر آئیں۔ اپنی والدہ سے بے پناہ محبت اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ زبردست بانڈنگ۔

گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے بیٹے روزانہ ان کو فون کرتے ہیں اور بچپن سے ہی ان کی صلاحیتوں پر ٹرسٹ کرکے اس محبت کی بنیاد ڈالی۔

میں نے پوچھا ایک نوجوان اپنا کیریئر کیسے منتخب کرے سٹیپ بائی سٹیپ کون سا پروسیس فالو کیا جائے اس پر تفصیلی جواب دیا جو ہم کالم کے دوسرے حصے میں ڈسکس کریں گے اور آخر میں ان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہوا یہ شعر

اس کو دیکھا تو مصور سے میرا ربط بڑھا
میں نے اس شخص میں قدرت کے نظارے دیکھے

1 thought on “میلسی کا ڈیجیٹل ملنگ”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *