mazhar kalim ma imran series

مظہر کلیم ایم – اے

عمران سیریز کے مظہر کلیم ایم اے

تحریر: محمد ثاقب

پچھلے دنوں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر ایک ورکشاپ اٹینڈ کرنے کا موقع ملا۔

مشہور ٹرینر ڈاکٹر ذکی الدین اے -آئی کی گروتھ کے بارے میں بتا رہے تھے انہوں نے بتایا کہ چیٹ جی- پی- ٹی کے ورژن نمبر 4 کی جواب دینے کی صلاحیت 160 کا آئی کیو رکھنے والے شخص کے برابر ہے۔

یاد رہے کہ آئی کیو کا یہ لیول آئن سٹائن کا تھا۔

مزید بتایا کہ اس کے نیکسٹ ورژن کی صلاحیت 10 گنا زیادہ ہوگی یعنی 1600 کے آئی کیو کے برابر اور اس سے اگلا ورژن 16000 کے آئی کیو کپیسٹی کے ساتھ آئے گا اور یہ سب کچھ اگلے دو سے تین سال میں ہو جائے گا۔
حیرت کا ایک جہان، ہلکی سی مسکراہٹ سے بتایا کہ اے – آئی آج کے دن بھی اس لیول پر پہنچ چکی ہے کہ وہ خود سے سوچتی ہے اپنی نئی پروگرامنگ خود سے کرتی ہے اپنے فیصلے بغیر کسی کمانڈ کے کرنے کے قابل ہے۔
شرکا کے چہروں پر موجود حیرت دیکھنے کے قابل تھی

محترم دوستو! ذرا سا توقف کریں اور نوے کی دہائی میں چلیں۔

پاکستان کے نمبر ون جاسوسی ناول نگار مظہر کلیم ایم -اے کا لکھا ہوا ناول حلقہ موت میرے ہاتھ میں تھا۔ ایک ایسی تنظیم کی کہانی جو پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتی تھی اور اس تنظیم کی خاص طاقت ایک ایسا سپر کمپیوٹر جو خود سوچتا تھا فیصلے کرتا تھا اور ناول کے آخر میں وہ پوری کارپوریشن پر قبضہ کر لیتا ہے۔ جی ہاں اے-آئی کا آج وائرل ہونے والا کانسیپٹ مظہر کلیم نے 30 سال پہلے ہی بیان کر دیا تھا۔

میں اپنے بچپن کو یاد کروں تو اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز یادوں میں آتی ہے۔ عمرو عیار اور ٹارزن کے لازوال کردار ڈائجسٹوں کا سنہری دور۔ ہر محلے میں لائبریریاں۔ اشتیاق احمد کے 500 سے زیادہ ناول پڑھ ڈالے اور اس کے بعد مظہر کلیم ایم۔ اے کی عمران سیریز ہاتھ لگ گئی۔

ملتان شہر کے رہائشی مظہر کلیم وکالت کے پیشے سے تعلق رکھتے تھے اپنی 76 سالہ زندگی میں 700 سے زیادہ ناول لکھے۔ ان کے ناولوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ہر لائبریری میں ان کے ناولوں کی پانچ سے دس کاپیاں ہر مہینے آتی تھیں یعنی اس دور میں باقی تمام لکھنے والوں کی کتابیں مجموعی طور پر جتنی بکتی تھیں اکیلے مظہر کلیم کے بکنے والے ناولوں کی تعداد ان سے زیادہ تھی۔

احمد فراز کا ایک شعر یاد آگیا

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

مختصر سی زندگی میں سات سو کتابیں لکھنا اللہ تعالی کی عطا کے بغیر ممکن نہیں۔ مختصر سا کالم لکھنے میں جو محنت ہے کتنا پڑھنا پڑتا ہے نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے ریسرچ کرنی ہوتی ہے یہ صرف ایک لکھاری ہی جانتا ہے۔

ہر مہینے دو ناول لکھنے کے لیے کتنی محنت کرنی پڑتی ہوگی اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے محترم دوستو! آپ کے ذمے صرف یہ کام لگایا جائے کہ آپ سات سو ناولز کے ٹائٹل تجویز کریں تو یقین کریں %99 لوگ یہ کام نہیں کر پائیں گے۔

مظہر کلیم کی خوبی ہر ناول کا منفرد ہونا ہے۔ آج سے 40 سال پہلے واچ ٹرانسمیٹر جس میں گھڑی وائبریٹ کرتی ہے جنگی آبدوزیں افریقہ کے جنگلوں کا احوال، مصری تہذیب نیویارک اور پیرس کے جوئے خانے،سفلی دنیا جیسے ناولوں کے ذریعے روحانیت کا تڑکا، ٹائٹینک مووی یاد آگئی فلم کے آغاز میں سمندر کے اندر ایک آبدوز اتاری جاتی ہے۔

اور بتایا جاتا ہے کہ جیسے جیسے آبدوز نیچے جاتی ہے پانی کا دباؤ بڑھتا جاتا ہے اور بہت زیادہ گہرائی میں انسان تیراکی نہیں کر سکتا

مظہر کلیم کی عمران سیریز پڑھنے والے دہائیوں پہلے اس بات سے واقف تھے

ابن صفی کے تخلیق کردہ علی عمران اور سیکرٹ سروس کے کرداروں میں مظہر کلیم نے جوانا، ٹائیگر، کیپٹن شکیل، فیصل جان (اپنے بیٹے کے نام پر) صالحہ شاگل، کرنل ڈیوڈ اور توصیف جیسے بے مثال لوگوں کا اضافہ کیا۔

اور بچوں کے ادب کی بات کریں تو مظہر کلیم نے چھن چھنگلو، آنگلو بانگلو اور چلو سک ملوسک جیسے دلچسپ کردار تخلیق کیے۔

ان
کرداروں کو جس طریقے سے پیش کیا گیا یہ انہی کا خاصہ تھا۔

چھن چھنگلو اور جاگو نہ جن نامی کہانی آج بھی میری یاداشت میں باقی ہے۔

معیاری حس مزح اور سسپنس کو برقرار رکھنا ان کے ناولوں کو امتیازی حیثیت عطا کرتا ہے۔

آپ کو سن کر حیرانی ہوگی کہ کرکٹ میں میچ فکسنگ، بھکاری مافیا، قبضہ گروپس، کیمیکل پولیوشن، بردہ فروشی سٹوڈنٹ پالیٹکس، انٹرنیشنل ایوارڈز میں ہونے والی گڑبڑ، خلا کی تسخیر، ریکو ڈک جیسے معدنی ذخائر کو نہ نکالنے کے پیچھے چھپی ہوئی سازشیں، جنگلات کی اہمیت اور سب سے بڑھ کر اپنے وطن سے محبت،یہ سب کچھ مظہر کلیم کی تحریروں کا خاصہ تھا۔

جنگلات کے ذکر پر ان کا ناول “وڈ کنگ” یاد آگیا۔

مظہر کلیم 26 مئی 2018 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔

سوئیں گےحشر تک کہ سبکدوش ہو گئے
بار امانت غم ہستی اتار کے

(حفیظ ہوشیار پوری)

مبشر علی زیدی یاد آگئے لکھتے ہیں شادی کے بعد بیگم صاحبہ نے پوچھا کبھی زندگی میں عشق کیا جواب دیا میں نے چار خواتین سے عشق کیا بیگم چونک گئیں اور پوچھا وہ چار خواتین کون ہیں جواب دیا سب سے پہلی سنڈریلا دوسری انسپیکٹر جمشید کی بیٹی فرزانہ تیسری ابن صفی کی جولیانا اور چوتھی فرہاد علی تیمور کی سونیا۔

میرے جیسے اردو میڈیم میں پڑھنے والے سنڈریلا کو تو نہیں جانتے باقی تین خواتین میرے بھی دل کے قریب ہیں۔

اپنی فیلڈ مائنڈ سائنسز کی بات کروں تو مظہر کلیم کا لاجواب ناول مثالی دنیا ذہن میں آتا ہے اپنے ذہن کی طاقت سے دوسری دنیاؤں کی سیر کرنا اور اس مشکل
Idea
کو جاسوسی ناول کی شکل دینا گویا کمال ہی ہو گیا

ان سے پہلے اشتیاق احمد کا انتقال ہوا تو بچوں کا جاسوسی ادب ویران ہو گیا ابن صفی کے انتقال کے بعد مظہر کلیم نے جاسوسی ادب کو نئی شناخت دی۔ پاکستان کے زیادہ تر لکھاری بڑی عمر کے ہیں اور ابن صفی کے عاشق ہیں اور مظہر کلیم کی توصیف میں تھوڑی سی کنجوسی کر جاتے ہیں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی پاکستان کا اثاثہ ہیں۔

میں نے دونوں مصنفین کو پڑھا میری نظر میں ابن صفی کو ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں باوقار، رائل ٹچ۔

اوول کی تاریخی فتح اور نئی ٹیم کو بنانے کا کارنامہ۔ لیکن مظہر کلیم نے اپنی ذات میں کرکٹ میں عمران خان کی طرح اپنا لوہا منوایا۔

اردو

جاسوسی ادب کو مظہر کلیم نے ہی انٹرنیشنل لیول تک پہنچایا۔ ابن صفی سے کئی گنا آگے۔

آج مظہر کلیم کے بعد پاکستان کے جاسوسی ادب میں بھی ایسا کوئی نام نظر نہیں آتا جو اس مشن کو آگے بڑھائے۔

اور آخر میں اشتیاق احمد اور مظہر کلیم کے لیے احمد فراز کا شعر

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم

کہ تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *