خضدار میں غلام محمد کی ایک چھوٹی سی کریانہ کی دکان تھی، مگر یہ دکان اُس کی پوری دنیا تھی۔ لکڑی کی پرانی شیلفوں پر سجی ہوئی روزمرہ کی چیزیں، آٹا دالیں چاول مسالے، تول کے باٹ، کاؤنٹر کے نیچے رکھا رجسٹر، اور اُس کے ہاتھوں کی وہ محنت جس سے گھر چلتا تھا۔ وہ ہفتے میں ایک بار دکان بند کرتا، تالہ لگاتا اور کراچی کی بس میں بیٹھ جاتا۔ یہ سفر اُس کے لیے امید کا سفر ہوتا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ سامان لائے گا تو دکان چلے گی، دکان چلے گی تو گھر چلے گا۔ اُسے کیا خبر تھی کہ ایک دن وہ کراچی میں سودا سلف لیتا رہے گا اور پیچھے خضدار میں اُس کی زندگی بھر کی کمائی وہ دکان آگ لگنے سے جل کر راکھ ہو جائے گی۔
آگ لگی، شعلے اٹھے، اور دیکھتے ہی دیکھتے غلام محمد کی دکان پہچان ہی نہ رہی۔ نہ فون تھا، نہ پیغام، نہ کوئی جلدی خبر دینے والا۔ مگر خضدار نے غلام محمد کو یوں نہیں بھلایا۔ شہر کی ہندو تاجر برادری، جو اُس زمانے میں تجارت کی اصل طاقت تھی، خاموشی سے اکٹھی ہوئی۔ کوئی لمبی تقریر نہیں، کوئی بڑے دعوے نہیں۔ صرف ایک فیصلہ کہ غلام محمد کو ٹوٹنے نہیں دینا۔ دکان دوبارہ بنے گی، مال دوبارہ آئے گا، نقصان ایک ایک روپیہ پورا کیا جائے گا، یہاں تک کہ گھر کے خرچے کی فکر بھی اُس پر نہیں چھوڑیں گے۔ بس اسٹاپ پر لوگ بٹھائے گئے۔ غلام محمد جس بس سے بھی آئے، اُسے فوراً گھر نہیں جانے دیا جائے گا۔ پہلے چائے ہوگی، ناشتہ ہوگا، حال احوال ہوگا۔ پھر آہستگی سے بتایا جائے گا کہ دکان جل گئی ہے، اور اسی سانس میں یہ بھی کہا جائے گا کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ یہ جملہ سن کر غلام محمد رو پڑا تھا، مگر یہ آنسو بے بسی کے نہیں تھے، یہ آنسو انسانیت کے تھے۔ اور پھر یہ کہانی وعدوں پر ختم نہیں ہوئی۔ دکان بنی، سامان آیا، غلام محمد دوبارہ کھڑا ہو گیا۔ خضدار کی اُس آگ نے ایک دکان جلائی تھی، مگر انسان کو نہیں جلایا تھا۔
آج گل پلازا جل کر گرا ہے تو وہی خضدار کی آگ دل میں دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ کراچی میں بولٹن مارکیٹ کی آگ آنکھوں کے سامنے ہے، ایک نہیں دو بار۔ وہ فیکٹری جہاں دو سو سے زیادہ لوگ اندر جل گئے، وہ منظر آج بھی دل دہلا دیتا ہے۔ آگ ہر بار ایک جیسی ہوتی ہے، شعلے بھی وہی، دھواں بھی وہی، مگر ہمارے ردِعمل ہر بار کمزور نکلتے ہیں۔ گل پلازہ کے متاثرین اس وقت صرف دکاندار نہیں، وہ باپ ہیں، مائیں ہیں، بچے ہیں، جن کے سامنے آنے والا کل ایک لمحے میں دھندلا گیا ہے۔
اور اسی دکھ کے بیچ ایک اور سچ بھی کھڑا ہے جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرتا ہے۔ کچھ دن پہلے بحریہ ٹاؤن میں ایک نشست تھی۔ فائر سیفٹی کے ماہرین آئے تھے۔ ہال میں تقریباً ڈیڑھ سو لوگ بیٹھے تھے۔ ماہر کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ اس وقت کس کے گھر یا کس کی گاڑی میں آگ بجھانے کا آلہ موجود ہے۔ ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک ہاتھ اٹھا۔ صرف ایک ہاتھ۔ ایک خاتون، جو وہیل چیئر پر آئیں تھیں، انہوں نے بتایا کہ اُن کی گاڑی میں یہ سب موجود ہے۔ ڈیڑھ سو میں سے ایک۔ انتظامیہ نے اُنہیں انعام دیا، مگر اصل انعام دراصل ہمیں شرمندگی کی صورت میں ملا۔ یہ ایک ہال کی بات نہیں، یہ پورے پاکستان کی تصویر ہے۔ ہم آگ کے بعد روتے ہیں، مگر آگ سے پہلے تیاری نہیں کرتے۔
آج گل پلازا کے ملبے پر کھڑے ہو کر اگر ہم نے پھر صرف افسوس کیا اور آگے بڑھ گئے تو یہ کہانی یہاں دفن ہو جائے گی۔ مگر اگر آج ہم نے عہد کیا، سچّا عہد، تو شاید یہ آگ آخری سبق بن جائے۔ آج ہم یہ وعدہ کریں کہ کراچی ہو یا خضدار، پاکستان کا ہر شہر، ہر گاڑی، ہر گھر، ہر دفتر، آگ سے بچاؤ کے ایک چھوٹے سے انتظام سے خالی نہیں ہوگا۔ تاکہ جب کہیں چنگاری اٹھے تو لوگ تماشائی نہ بنیں، دوڑیں، آگے بڑھیں، اور آگ کو پھیلنے سے پہلے بجھا دیں۔ ہر ایک گل کو بچا لیں، ایک گل پلازہ کو بچا لیں، اپنے پھول جیسے بچوں کو بچا لیں۔
یہ تحریر کسی افسانے کا انجام نہیں، یہ ایک زندہ قوم کے ضمیر کی آزمائش ہے۔ خضدار کی آگ نے ہمیں سکھایا تھا کہ انسان انسان کے کام آتا ہے۔ گل پلازا کی آگ ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کیا ہم نے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں۔
اللہ تعالیٰ جلنے والوں کے زخموں پر مرہم رکھے، اجڑنے والوں کو دوبارہ بسائے، اور ہمیں وہ ہمت دے کہ ہم آنسو بہانے کے بعد کھڑے ہو کر ان کی بھرپور مدد کریں۔
اللہ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
گل پلازا اور خضدار کی آگ
