18 ویں صدی کے بعد اکیسویں صدی کی نسل ’’جنریشن زیڈ‘‘ ایسی پہلی نسل ہے جو اپنے والدین سے کم تر ذہین ہے۔ ماہرین نے گزشتہ کئی دہائیوںکے ڈیٹاکے جائزے کے بعد یہ کہاہے کہ اس سے پہلے دو صدیوں میں جو بھی نئی نسل آتی رہی ہے، وہ اپنے والدین سے زیادہ ذہین ہوتی تھی۔ لیکن، اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والی نسل جسے ’’جنریشن زیڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، اپنے والدین سے زیادہ ذہین نہیں ہے، بلکہ اس کی ذہانت اور دماغی صلاحیتیں اپنے والدین اور گزشتہ نسل سے کم تر ہیں۔
اس کی وجہ ماہرین کے مطابق، ان کا اسکولوں میں کتابوں اور تعلیم و تدریس سے کہیں زیادہ اسکرین کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ کگنیٹیو نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر جیرڈ کونی ہوروتھ کے مطابق، جنریشن زیڈ اسکولوں میں پہلے سے زیادہ وقت گزارنے کے باوجود اپنی ذہنی صلاحیتوں میں کم تر ہے۔ 2010 کے بعد کلاس روم میں جتنی تیزی سے ڈیجیٹل آلات کا استعمال شروع ہوا ہے، وہ ذہانت میں کمتری کی بنیادی وجہ ہے۔ 80 ممالک میں، وہ طلبہ جو اسکول میں روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، اپنے ان ساتھیوں سے ریاضی میں دو تہائی کم صلاحیت رکھتے تھے، کہ جنھوں نے کمپیوٹر جیسے تکنیکی آلات کا استعمال نہیں کیا۔ پاکستان کہ جہاں تعلیم میں ڈیجیٹلائزیشن کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسکولوں میں جدید ٹکنالوجی بالخصوص اے آئ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، ہماری نوجوان اور جوان نسل شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
ڈاکٹر ہوروَتھ کہتے ہیں، گزشتہ نسلیں اسکول میں رہ کر اپنی ذہانت کو بہتر بناتی تھیں۔ جبکہ جنریشن زیڈ کے ساتھ ایسا نہیں ہے، کیوں کہ آج کے اسکولوں اور پھر گھروں میں انھیں اسکرین دے دی گئی ہے۔ اس پر مستزاد، اصل مسئلے کو حل کرنے کی بجائے تعلیمی ٹیسٹوں کے معیارات کو کم کیا جارہا ہے تاکہ طلبہ اور ان کے والدین میں یہ خوشی پیدا کی جاسکے کہ وہ کامیاب ہورہے ہیں۔ یہ طلبہ اور ان کے والدین کے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہے۔ اِدھر پاکستان میں بھی اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو اس انداز سے پیش کیا جارہا ہے کہ اس سے ان نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوگا اور ان کا مستقبل سنور جائے گا۔ ان دعووں کے شور میں، اس بات کو بھلادیا گیا ہےکہ یہ ڈیجیٹلائزیشن کے بدلے ان طلبہ کو ذہنی، تعلیمی، جذباتی استحصال کی صورت میں کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
مائنڈفلنس کے ٹیچر کی حیثیت سے میں اس بات کو خوب سمجھ سکتا ہوں کہ ڈیجیٹلائزیشن ہمارے بچوں کو کس ابتری اور کم تری کے شکنجے میں قید کرنے کررہی ہے اور اس کا آغاز ہوچکا ہے۔ اساتذہ اس بات سے متفق ہیں کہ اسکرین پر سکھائ بہت دل کش لگتی ہے، مگر اس سے بچوں کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کردیا ہے۔
اس موضوع پر ہونے والی تحقیقات سے یہ بنیادی پیغام واضح ہے: نوجوان دماغوں کی حفاظت کیلئے صرف نصاب بدلنا کافی نہیں، بلکہ ڈیجیٹلائزیشن کے مزاج کے خلاف سماجی اور معاشرتی ردِعمل کی ضرورت ہے۔
حل کیا ہے؟
جیسا کہ ڈاکٹر جوناتھن ہیٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے، ہمیں اپنے بچوں کو فطرت سے دوبارہ قریب لانے کی ضرورت ہے، نہ کہ ہم انھیں پُرفریب ڈیجیٹل دنیا میں دھکیل دیں۔ تازہ ترین مثال ڈنمارک کی ہے جہاں ماہرین تعلیم نے ڈیجیٹلائزیش کے نام پر اپنے بچوں کا تعلیمی اور ذہنی معیار کم ہونے نہیں دیا، بلکہ انھوں نے اسکول اور کلاس روم سے فون، ٹیب اور لیپ ٹاپ ختم کردیے۔ فزیکل کتابیں متعارف کرائ گئیںاور طلبہ پر زور دیا جانے لگا ہےکہ وہ اپنے ہاتھ ہوم ورک کریں۔
ڈنمارک میں اسکول کے بعد بچوں کو گیجٹ نہ دینے کی ترغیب دی جاتی ہے اور سرکاری سطح پر ’’نو فون ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ ایکسپرٹ عمران راشد اس بات کی کوشش میں ہیں کہ ڈنمارک میں پندرہ برس سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔
عملی اقدامات
اول۔ پاکستانی اسکولوں میں طبیعی کتابوں کی حوصلہ افزائ کی جائے۔
دوم۔ روزانہ ۳۰ سے ۴۶ منٹ تک ’’فوکس بلاک‘‘ میں رہا جائے جس کے دوران کسی بھی قسم کی اسکرین کا استعمال قطعاً ممنوع ہو۔
سوم۔ اسکولوں میں ہر کلاس کے ہر طالب علم کیلئے فون لانے پر سخت پابندی ہو۔
چہارم۔ فون کے غیر ضروری اور فیشن پر مبنی استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
پنجم۔ اسکول یا کمیونٹی کی سطح پر مہینے میں کم از کم ایک بار ’’ڈیجیٹل ڈی ٹاکس‘‘ شام منائ جائے جس کےدوران والدین ایک دوسرے کے ساتھ بغیر فون ٹیب وغیرہ کے بات چیت کریں۔ اس دوران فون کے استعمال پر سخت پابندی ہو۔
پاکستان ایک کراس روڈ پر ہے جہاں ہم یا تو کمزور ذہن، توجہ اور جذباتی شدت پر مبنی مستقبل کیلئے تیار رہیں یا پھر اپنی نئی نسل (جنریشن زیڈ) کو باشعور، حاضر باش، توجہ سے بھرپور، ذہنی طور پر قوی بنالیں۔۔ جو تبھی ممکن ہے کہ ہم اس نسل کیلئے نئی ٹکنالوجی کی حدوں کو محدود کردیں۔
والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے طور پر، کم اسکرین اور زیادہ حقیقی تعلیم کا انتخاب کرنا ہمارے بچوں کے مستقبل کیلئے سب سے زیادہ ہمدردانہ تحفہ ہوسکتا ہے جو ہم اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں۔
’’مضطرب نسل‘‘ اس موضوع پر جوناتھن ہیٹ کی انقلابی کتاب کا میرا ترجمہ بہت ہی کارگر اور عملی ہدایات سے بھرپور ہے۔
